Tafsir As-Saadi
35:3 - 35:4

اے لوگو! یاد کرو نعمت اللہ کی اوپر اپنے، کیا کوئی اور خالق ہے سوائے اللہ کے، جو رزق دے تمھیں آسمان اور زمین سے؟ نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے(بہکائے)جاتے ہو؟(3)اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات(4)

[3] اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی نعمت کو یاد کریں جس سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ یاد کرنا دل میں اللہ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو یاد رکھنے، زبان سے اس کی حمد وثنا کرنے اور جوارح سے اس کی اطاعت کرنے کو شامل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرنا، اس کے شکر کی دعوت دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی نعمتوں کی طرف اشارہ فرمایا اور وہ پیدا کرنا اور رزق عطا کرنا ہیں۔ فرمایا:﴿هَلۡ مِنۡ خَالِـقٍ غَيۡرُ اللّٰهِ يَرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دے؟‘‘ چونکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پیدا کرتا ہے نہ رزق عطا کرتا ہے اس لیے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ چیز اس کی الوہیت اور عبودیت پر دلیل ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖٞ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی خالق و رازق کی عبادت کو چھوڑ کر، مخلوق کی عبادت کرتے ہو، جو خود رزق کی محتاج ہے۔
[4]﴿وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ ﴾ ’’(اے رسول!) اور اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں‘‘ تو آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین میں آپ کے لیے نمونہ ہے ﴿فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول جھٹلائے گئے۔‘‘ تو جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘