Tafsir As-Saadi
35:42 - 35:43

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اپنی، البتہ اگر آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا تو ضرور ہوں گے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہر ایک امت سے پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا تو نہیں زیادہ کیا(اس نے) ان کو مگر نفرت ہی میں(42)تکبر کی وجہ سے زمین میں اور بری تدبیر (کی وجہ سے) اور نہیں گھیرتی بری تدبیر مگر ا س کے کرنے والے ہی کو، پس وہ نہیں انتظار کرتے مگر (اللہ کے) طریقے کا پہلے لوگوں کے (بارے میں)پس ہرگزنہ پائیں گے آپ اللہ کے طریقے کا بدلنا اور ہرگز نہ پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی کا ٹلنا(43)

[42] اے اللہ کے رسول! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ﴿لَىِٕنۡ جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ لَّـيَكُوۡنُنَّ اَهۡدٰؔى مِنۡ اِحۡدَى الۡاُمَمِ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونگے۔‘‘ یعنی وہ یہودونصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انھوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’ چنانچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آ گیا‘‘ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ﴿مَّا زَادَهُمۡ ﴾ ’’نہیں زیادہ کیا ان کو‘‘ اس گمراہی نے ﴿اِلَّا نُفُوۡرَاِۨ﴾ ’’مگر نفرت ہی میں‘‘ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔
[43] ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لیے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کر دی جاتی لیکن ان کا قسمیں اٹھانا تومخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکر وفریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ تو اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ ﴾ ’’اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا‘‘ جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے ﴿اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾ ’’مگر بری چال چلنے والوں ہی پر‘‘ ان کا مکروفریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں پس اس سے ان کی رسوائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہو گیا۔ ان کا مکروفریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں۔ جو کوئی ظلم، عناد اور مخلوق کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔