Tafsir As-Saadi
35:44 - 35:45

کیا نہیں چلے پھرے وہ زمین میں کہ دیکھتے وہ، کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نہیں ہے اللہ کہ عاجز کر دے اس کو کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ (کوئی چیز) زمین میں، بلاشبہ ہے وہ خوب جاننے والا، خوب قدرت والا(44) اور اگر مؤاخذہ کرے اللہ لوگوں کا بہ سبب اس کے جو انھوں نے کمایا تو نہ چھوڑے وہ اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے والا جاندار، اور لیکن وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک، پس جب آ جائے گا ان کا وقت مقرر تو بلاشبہ اللہ ہے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا(45)

[44] اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لیے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنھوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا، جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَيۡءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل قدرت کا مالک ہے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا﴾ ’’اور لوگوں نے جو گناہ کیے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا‘‘ ﴿مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ ’’تو روئے زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے۔ ﴿وَّلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے ، پھر جب ان کا وقت آ جائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ پس اللہ اپنے علم کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔