کیا نہیں دیکھا انسان نے، بے شک پیدا کیا ہم نے اس کو قطرۂ منی سے پس ناگہاں (ہوگیا) وہ جھگڑنے والا ظاہر (77) اور بیان کی اس نے ہمارے لیے مثال اور وہ بھول گیا اپنی پیدائش کو، اس نے کہا: کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ (78)کہہ دیجیے: زندہ کرے گا ان کو وہی (اللہ) جس نے پیدا کیا ان کو پہلی مرتبہ، اور وہ ہر طرح کے پیدا کرنے کو خوب جانتا ہے(79) وہ (اللہ) جس نے بنا دی تمھارے لیے سبز درخت سے آگ، پھر یکایک تم اس سے آگ سلگا لیتے ہو(80)کیا نہیں وہ (اللہ) جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قدرت رکھنے والا اس بات پر کہ پیدا کر ے وہ ان کی مثل؟ کیوں نہیں! وہی تو ہے پیدا کرنے والا، جاننے والا (81) یقیناً اس کا حکم، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا یہ (ہوتا ہے) کہ وہ کہتا ہے اس کو، ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (82) پس پاک ہے وہ (اللہ) کہ جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (83)
[77] چنانچہ فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَرَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے میں غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے ﴿مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’نطفے سے‘‘ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتیٰ کہ بڑا ہو کر جوان ہو جاتا ہے اور اس کی عقل کامل اور درست ہو جاتی ہے ﴿فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھتا ہے‘‘ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتدا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت میں غور کرنا چاہیے اور اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہستی جو اسے عدم سے وجود میں لائی ہے زیادہ قدرت رکھتی ہے کہ اس کے مرنے اور ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جانے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرے۔
[78]﴿وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا ﴾ ’’اور اس نے ہمارے لیے مثال بیان کی۔‘‘ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس قسم کی مثال بیان کرے اور وہ ہے خالق کی قدرت کا مخلوق کی قدرت کے ساتھ قیاس کرنا، نیز یہ قیاس کرنا کہ جو چیز مخلوق کی قدرت سے بعید ہے وہ خالق کی قدرت سے بھی بعید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قَالَ ﴾ یعنی اس انسان نے کہا: ﴿مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ ﴾ یعنی کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو ان ہڈیوں کو زندہ کرے گی؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان ہڈیوں کے بوسیدہ اور معدوم ہو جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ شبہ اور مثال کا یہی پہلو ہے کہ یہ معاملہ بشر کی قدرت سے بہت بعید ہے۔ یہ قول جو انسان سے صادر ہوا ہے اس کی غفلت پر مبنی ہے، نیز وہ اپنی تخلیق کی ابتدا کو بھول گیا ہے۔ اگر وہ اپنی تخلیق پر غور کرتا کہ کیسے اس کو پیدا کیا گیا جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا تو وہ اعادۂ تخلیق کو عیاں پاتا اور یہ مثال بیان نہ کرتا۔
[79] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کے اعادۂ تخلیق کے محال ہونے کے شبے کا کافی اور شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ يُحۡيِيۡهَا الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی وہ مجرد اپنے تصور ہی سے کسی شبے کے بغیر، یقینی طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ہستی جس نے اسے پہلی مرتبہ وجود بخشا، وہ دوسری مرتبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے۔ جب تصور کرنے والا تصور کرتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ اعادۂ تخلیق بہت معمولی نظر آتا ہے۔ ﴿وَهُوَ بِكُلِّ خَلۡقٍ عَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے دوسری دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی تمام مخلوقات کا، ان کے تمام احوال کا تمام اوقات میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مردوں کے اجساد خاکی میں سے کیا چیز کم ہو رہی ہے اور کیا چیز باقی ہے۔ وہ غائب اور شاہد ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم علم کا اقرار کر لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو مُردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کرنے سے زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل ہے۔
[80] پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّؔنۡهُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴾ جب وہ سرسبز درخت سے جو مکمل طور پر گیلا ہوتا ہے خشک آگ نکال سکتا ہے، حالانکہ ان دونوں میں سخت تضاد اور تخالف ہے، تو وہ اسی طرح مردوں کو ان کی قبروں سے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
[81] پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَيۡسَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ یعنی کیا جس ہستی نے آسمانوں اور زمین کی وسعت اور عظمت کے باوجود، ان کو تخلیق فرمایا۔ ﴿بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ کیا وہ ان کو بعینہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ﴿بَلٰى ﴾ ’’کیوں نہیں‘‘ وہ ان کو دوبارہ وجود بخشے پر قادر ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق سے زیادہ مشکل اور زیادہ بڑی ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ یہ پانچویں دلیل خاص ہے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا ہے تمام مخلوقات خواہ پہلے گزر چکی ہوں یاآنے والی ، چھوٹی ہوں یا بڑی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور قدرت کے آثار ہیں۔ جب وہ کسی مخلوق کو تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنا اس کی تخلیق کے آثار کا ایک حصہ ہے۔
[82] اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلاشبہ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ (شَیْئًا) شرط کے سیاق میں نکرہ ہے، اس لیے ہر چیز کو شامل ہے۔ ﴿اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔‘‘ یعنی وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسی وقت ہو جاتی ہے۔
[83]﴿فَسُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ چھٹی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اس کی ملکیت اور اس کے غلام ہیں، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں، وہ ان کے اندر اپنے احکام کونی و قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔ ان کی موت کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ وہ اپنی ملکیت کامل سے ان پر اپنا حکم جزائی نافذ کرے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ کسی شک و شبے کے بغیر، تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے کیونکہ قطعی اور واضح دلائل و براہین نہایت تواتر کے ساتھ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے کلام کو ہدایت، شفا اور نور بنایا۔