Tafsir As-Saadi
4:75 - 4:75

اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں لڑتے تم راستے میں اللہ کے اور ان لوگوں کی خاطر جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے؟ وہ جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! نکال ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں اس کے باشندے اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار(75)

[75] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کر دیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لیے بہت بڑی ملامت کا باعث ہو گا۔ ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مستضعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انھیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انھیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمھارے بچوں، عورتوں اور تمھاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔