بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169)
[167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔
[169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔