اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔