Tafsir As-Saadi
47:4 - 47:6

پس جب ملو تم (جہاد میں) ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا تو(مارو) مارنا گردنیں (ان کی) یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تم ان کو تو مضبوطی سے باندھ دو (قیدیوں کو) بیڑ یوں میں، پھر یا تو (ان پر) احسان کرنا ہے اس کےبعد، اور یا فدیہ (تاوان) لینا ہے یہاں تک کہ رکھ (ڈال) دے لڑائی اپنے ہتھیار(حکم)یہی ہے، اور اگر چاہتا اللہ (تو خود ہی ) البتہ بدلہ لے لیتا ان سے اور لیکن (تمھیں حکم دیا ہے) تا کہ آزمائے وہ تمھارے بعض کو ساتھ بعض کے اور وہ لوگ جو قتل (شہید) کیے گئے اللہ کی راہ میں، پس ہرگز نہیں ضائع کرے گا وہ اعمال ان کے(4) عنقریب وہ رہنمائی کرے گا ان کی اور اصلاح کرے گا ان کے حال کی(5) اور وہ داخل کرے گا انھیں (اس) جنت میں کہ خوب پہچان کروا چکا ہے وہ اس کی ان کو(6)

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی ان امور کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے، جن میں ان کی بھلائی اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں نصرت ہے ارشاد فرماتا ہے:﴿ فَاِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ جب جنگ اور قتال میں تمھارا کفار سے سامنا ہو تو ان کے خلاف بہادری سے لڑو اور ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کو اچھی طرح کچل دو اور جب تم ان کی طاقت کو توڑ چکو اور تم سمجھو کہ ان کو قیدی بنانا زیادہ بہتر ہے۔ ﴿ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ﴾ تو انھیں مضبوطی سے باندھ لو۔ یہ ان کو قیدی بنانے کے لیے احتیاط ہے تاکہ وہ بھاگ نہ جائیں۔ جب ان کو مضبوطی سے باندھ دیا جائے گا تو مسلمان ان کی طرف سے جنگ اور ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں گے۔جب وہ تمھاری قید میں آ جائیں، تو تمھیں اختیار ہے کہ تم ان پر احسان کرتے ہوئے مال لیے بغیر چھوڑ دو یا ان سے فدیے لے لویعنی تم ان کو اس وقت تک آزاد نہ کرو جب تک کہ وہ اپنا فدیہ ادا نہ کریں یا ان کے ساتھی فدیہ میں کچھ مال ادا نہ کریں یا اس کے بدلے میں کسی مسلمان قیدی کو، جو ان کی قید میں ہو، آزاد نہ کریں۔ یہ حکم دائمی ہے ﴿ حَتّٰى تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَهَا﴾حتیٰ کہ جنگ باقی نہ رہے اور تمھارے درمیان صلح اور امن قائم ہو جائے۔ کیونکہ ہر مقام کے لیے ایک قول اور ہر صورت حال کے لیے ایک حکم ہے۔ گزشتہ صورت حال اس وقت تھی جب جنگ اور قتال کی حالت تھی۔ جب کسی وقت، کسی سبب کی بنا پر جنگ اور قتال نہ ہو تو قتل اور قیدی بنانے کا فعل بھی نہ ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ حکم مذکور ہے کفار کے ذریعے سے اہل ایمان کی آزمائش، ان کے درمیان گردش ایام اور ایک دوسرے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بارے میں ہے﴿ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ کسی ایک ہی موقع پر کفار سے انتقام نہ لے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی اصل ہی ختم نہ ہوجائے ﴿ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾’’لیکن اس نے چاہا کہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرے۔‘‘ تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے تاکہ بندوں کے احوال کھلتے رہیں، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوتا رہے، جو کوئی ایمان لائے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے، وہ مسلمانوں کے غلبے سے مطیع ہو کر ایمان نہ لائے، کیونکہ یہ تو بہت ہی کمزور ایمان ہے اور ایسا ایمان رکھنے والا شخص امتحان اور آزمائش کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے۔‘‘ ان کے لیے ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے خلاف لڑتے ہیں، جن کے خلاف ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کو باطل اور ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال قبول فرما کر ان کو بڑھائے گا۔ دنیا و آخرت میں ان کے اعمال کے نتائج ظاہر ہوں گے۔
[5]﴿ سَيَهۡدِيۡهِمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کو اس راستے کی طرف چلنے کی توفیق عطا کرے گا جو جنت کی طرف جاتا ہے ﴿ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے احوال اور معاملات کی اصلاح کرے گا، ان کا ثواب درست اور کامل ہو گا، جس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تنگی ہو گی نہ تکدر۔
[6]﴿ وَيُدۡخِلُهُمُ الۡؔجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور انھیں اس جنت میں داخل کرے گا جس سے انھیں شناسا کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اولاً ان کے سامنے جنت کے اوصاف اور اس جنت تک پہنچنے کے اعمال بیان کرنے کے ساتھ ان میں ان کا شوق پیدا کر کے اس سے متعارف اور واقف کرایا اور ان جملہ اعمال میں اللہ کے راستے میں شہادت بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو بجا لانے کی توفیق عطا کی اور ان میں رغبت پیدا کی۔ پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی منازل، ان کے اندر موجود نعمتوں اور ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی سے متعارف کرائے گا۔