Tafsir As-Saadi
47:7 - 47:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم مدد کرو گے اللہ (کے دین) کی تو وہ مدد کرے گا تمھاری اور ثابت رکھے گا قدم تمھارے(7) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے ان کے لیے، اور ضائع کر دے گا وہ (اللہ) اعمال ان کے(8) یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جونازل کی اللہ نے، پس برباد کر دیے اس نے اعمال ان کے(9)

[7] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے حکم ہے کہ وہ اقامت دین، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کے ذریعے سے اس کی مدد کریں اور ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ جب وہ یہ تمام کام کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا اور ان کو ثابت قدمی عطا کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ طمانیت اور ثبات کے ذریعے سے ان کے دلوں کو مضبوط کرے گا، ان کے اجساد کو ان امور کو برداشت کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔ اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمائے گا۔یہ ایک کریم اور وعدے کی سچی ہستی کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اپنے قول و فعل سے اس کی مدد کرے گا تو وہ بھی اپنے دوست کی مدد کرے گا اور اسے فتح و نصرت کے اسباب یعنی ثابت قدمی وغیرہ عطا کرے گا۔
[8] رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور باطل کی مدد کی تو ان کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ وہ الٹے پاؤ ں رسوائی کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ﴿ وَاَضَلَّ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کے ان اعمال کو باطل کر دے گا جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان کا مکر و فریب انھی پر الٹ جائے گا، اور ان کے اعمال باطل ہو جائیں گے جن کے بارے میں انھیں زعم تھا کہ یہ اعمال انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔
[9] کفار کو گمراہ کرنے اور ان کے لیے ہلاکت کے مقدر ہونے کا سبب یہ ہے ﴿ كَرِهُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ﴾ کہ انھیں قرآن سخت ناپسند تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، جسے اللہ تعالیٰ نے بندوں کی بھلائی اور ان کی فلاح کے لیے نازل فرمایا، مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا، بلکہ اسے ناپسند کیا اور اس کے ساتھ بغض رکھا ﴿فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردیے۔‘‘