Tafsir As-Saadi
47:18 - 47:18

سو نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا یہ کہ آئے ان کے پاس اچانک، پس تحقیق آ چکی ہیں نشانیاں اس کی، پس کہاں ہو گا ان کے لیے، جب آ جائے گی ان کے پاس قیامت، نصیحت (حاصل کرنا) ان کا؟ (18)

[18] کیا یہ اہل تکذیب منتظر ہیں ﴿ اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً﴾ کہ قیامت کی گھڑی ان کے پاس آئے، یعنی اچانک آ جائے انھیں شعور بھی نہ ہو ﴿ فَقَدۡ جَآءَؔ اَشۡرَاطُهَا﴾ یعنی قیامت کی وہ علامات آ چکی ہیں جو اس کے قریب آجانے پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ فَاَنّٰى لَهُمۡ اِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرٰىهُمۡ﴾ یعنی جب قیامت کی گھڑی آ جائے گی، ان کی مدت مقررہ اختتام کو پہنچ جائے گی تو ان کا نصیحت پکڑنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہونا کس کام آئے گا؟ یہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا، نصیحت پکڑنے کا وقت گزر گیا، انھوں نے وہ عمر گزار لی، جس کے اندر نصیحت پکڑی جا سکتی تھی حالانکہ ان کے پاس برے انجام سے ڈرانے والا بھی آیا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ موت کے اچانک آ جانے سے پہلے پہلے، اس کی تیاری کر لینی چاہیے، کیونکہ انسان کی موت ہی اس کے لیے قیامت کی گھڑی ہے۔