Tafsir As-Saadi
47:16 - 47:17

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف، یہاں تک کہ جب وہ نکلتے ہیں آپ کے پاس سے، تو کہتے ہیں ان لوگوں سے کہ وہ دیے گئے علم، کیا کہا تھا اس (پیغمبر) نے ابھی؟ یہی وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، اور پیروی کی انھوں نے اپنی خواہشات کی (16) اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی، اللہ نے زیادہ کیا ان کو ہدایت میں اور دیا انھیں تقویٰ ان کا (17)

[16] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں ﴿ مَّنۡ يَّسۡتَمِعُ اِلَيۡكَ﴾ کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے سنتے ہیں، قبول کرنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی غرض سے نہیں، بلکہ اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے دل اس سے روگرداں ہوتے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں، تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے، ان سے کہتے ہیں۔‘‘ جو کچھ آپ نے کہا اور جو کچھ انھوں نے سنا جس میں انھیں کوئی رغبت نہ تھی، اس کے بارے میں استفہام کے انداز میں کہتے ہیں:﴿ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ یعنی ابھی ابھی آپﷺ نے کیا کہا؟ یہ ان کا انتہائی مذموم رویہ ہے، کیونکہ اگر وہ بھلائی کے خواہش مند ہوتے تو آپ کی بات غور سے سنتے، ان کے دل اس بات کو محفوظ کر لیتے، ان کے جوارح اس کی اطاعت میں سرنگوں ہوتے، مگر ان کا حال تو اس کے برعکس تھا، اس لیے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، ان کے لیے بھلائی کے تمام دروازے بند کر دیے، کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی جن میں وہ محض باطل کی خواہش رکھتے تھے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ لوگوں کا حال بیان کیا۔ فرمایا: ﴿ وَالَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا﴾ وہ لوگ جنھوں نے ایمان، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی اتباع کے ذریعے سے ہدایت پائی ﴿ زَادَهُمۡ هُدًى﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر و توقیر کے لیے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ﴿ وَّاٰتٰىهُمۡ تَقۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔‘‘ یعنی انھیں خیر کی توفیق بخشی اور شر سے ان کی حفاظت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دو قسم کی جزا کا ذکر کیا ہے یعنی علم نافع اور عمل صالح۔