Tafsir As-Saadi
51:47 - 51:51

اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔