Tafsir As-Saadi
69:13 - 69:18

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)

[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔