پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔