Tafsir As-Saadi
61:4 - 61:4

بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں صف بستہ، گویا کہ وہ ایک عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی(4)

[4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس بات کی تعلیم ہے کہ انھیں جہاد میں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد میں ایک دوسرے کے ساتھ برابر کھڑے ہو کر صف بندی کریں اور صفوں میں کوئی خلل واقع نہ ہو، صفیں ایک نظم اور ترتیب کے مطابق ہوں جس سے مجاہدین کے مابین مساوات اور ایک دوسرے کے لیے قوت اور دشمن پر رعب طاری ہوتا ہو اور اس سے مجاہدین میں ایک دوسرے کے لیے نشاط پیدا ہوتا ہو۔بنابریں جب لڑائی کا وقت آ جاتا، تو رسول اللہ ﷺ خود اپنے اصحاب کرام کی صف بندی کرتے اور ان کو ان کی اپنی اپنی جگہوں پر اس طرح ترتیب دیتے، جہاں وہ ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ ہر دستہ اپنے مرکز کے ساتھ رابطے کا اہتمام رکھے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرے، اس طریق کار سے ہی کام پایۂ اتمام کو پہنچتا اور کمال حاصل ہوتا ہے۔