اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔
[7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
[8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔