Tafsir As-Saadi
7:28 - 7:30

اور جب کرتے ہیں وہ کوئی بے حیائی کا کام،تو کہتے ہیں پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو اور اللہ ے حکم دیا ہمیں اس کا، کہہ دیجیے!یقینا اللہ نہیں حکم دیتا بے حیائی کا،کیا کہتے ہو تم اللہ پر وہ باتیں جو نہیں جانتے تم؟(28) کہہ دیجیے!حکم دیا ہے میرے رب نے انصاف کا،اور(یہ کہ) سیدھے(قبلہ رخ) کرو اپنے چہرے ہر نماز کے وقت اور پکارو اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت، جیسے پہلے پیداکیا اس نے تمھیں،لوٹو گے تم(ویسے ہی)(29) ایک فریق کو ہدایت دی اس نے اور ایک فریق ثابت ہوگئی اوپر ان کے ضلالت۔ یقینا انھوں نے بنا لیا شیطان کو دوست سوائے اللہ کے،اور وه گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ہدایت یافتہ ہیں(30)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً ﴾ ’’جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں ۔‘‘ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے‘‘ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا﴾ ’’اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے‘‘ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ‘‘ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟
[29] پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے ﴿ قُلۡ اَمَرَ رَبِّيۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ ﴾ ’’اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر‘‘ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے، یعنی تمھاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿كَمَا بَدَاَكُمۡ ﴾ ’’جیسے پہلی مرتبہ تمھاری ابتدا کی‘‘ ﴿ تَعُوۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم پھر پیدا ہوگے۔‘‘ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
[30]﴿فَرِيۡقًا ﴾ ’’ایک فریق کو‘‘ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿ هَدٰؔى ﴾ ’’اس نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کیے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا ﴿ وَفَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ﴾’’اور ایک فریق، ثابت ہو گئی اس پر گمراہی‘‘ چونکہ انھوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کیے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کر دیا۔﴿ اِنَّهُمُ اتَّؔخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انھوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کر لیا، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لیے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ‘‘ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انھوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں ۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیکہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے گمان کو ہی سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔