Tafsir As-Saadi
77:29 - 77:34

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34)

[34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘