Tafsir As-Saadi
8:53 - 8:54

یہ اس واسطے کہ بے شک اللہ نہیں ہے بدلنے والا کسی نعمت کا جو انعام کی ہو اس نے اوپر کسی قوم کے، یہاں تک کہ وہ خود ہی بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے(53) جیسے عادت تھی آلِ فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو تو ہلاک کردیا ہم نے ان کو بسبب ان کے گناہوں کےاور غرق کردیا ہم نے آل فرعون کواور سب تھے وہ ظالم(54)

[53]﴿ ذٰلِكَ ﴾ وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انھیں حاصل تھیں ، ان سے سلب کر لی گئی تھیں ، اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ ﴾ ’’اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جو دی اس نے کسی قوم کو‘‘ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات‘‘ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار نہیں کرتے، پس جب وہ نعمتوں کی ناشکری کرتے اور ان کے بدلے کفر کرتے ہیں ... تب اللہ تعالیٰ ان سے ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو اس طرح بدل ڈالتا ہے جس طرح انھوں نے اپنے رویے کو بدل ڈالا۔اس بارے میں اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حکمت اور عدل و احسان پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ ان کو عذاب نہیں دیتا مگر ان کے ظلم کے سبب سے اور بندے اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو عبرت ناک سزا دیتا ہے، جس سے وہ اپنے اولیا کے دل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بولنے والے جو کچھ بولتے ہیں خواہ وہ آہستہ آواز سے بات کریں یا اونچی آواز میں ، اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو بندوں کے ضمیر میں مخفی اور ان کی نیتوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اپنے بندوں کی تقدیر میں وہی کچھ جاری کرتا ہے جس کا اس کا علم اور اس کی مشیت تقاضا کرتے ہیں ۔
[54]﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’جیسی عادت آل فرعون کی۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انھوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ ’’اور وہ سب‘‘ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں ، ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔