بے شک بدترین زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، پس وہ نہیں ایمان لاتے(55) وہ لوگ کہ عہد باندھا آپ نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنا عہد ہر مرتبہ اور وہ (ذرا) نہیں ڈرتے(56) پس اگر پائیں آپ ان کو لڑائی میں تو بھگا دیں ان کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں(57)
[56,55] فرمایا ﴿ اِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں ، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں ، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں ‘‘ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
[57] لہذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لیے فرمایا۔ ﴿ فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي الۡحَرۡبِ ﴾ ’’پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘‘ جبکہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدۡ بِهِمۡ مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان بن جائیں ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی بعد میں آنے والے ﴿ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’نصیحت پکڑیں ۔‘‘ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں ، یہ ان لوگوں کے لیے زجر و توبیخ کا سبب ہیں ، جنھوں نے گناہ نہیں کیے بلکہ ان کے لیے بھی جنھوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں ۔اس عقوبت کے لیے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر.... اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو.... جب اس سے معاہدۂ امن کر لیا جائے تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں ۔