الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب حکیم کی (1) کیا ہے واسطے لوگوں کے تعجب (کی بات) یہ کہ وحی کی ہم نے طرف ایک آدمی کی ان میں سے، ڈرائیں آپ لوگوں کواور خوش خبری دیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے (اس بات کی کہ) بے شک ان کے لیے مرتبہ ہے سچائی کا ان کے رب کے پاس، کہا کافروں نے، بلاشبہ یہ شخص تو یقینا جادو گر ہے ظاہر (2)
[1]﴿الٓرٰ١۫ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡحَكِيۡمِ﴾ ’’یہ آیتیں ہیں حکمت والی کتاب کی‘‘ اور وہ کتاب یہ قرآن ہے جو تمام تر حکمت و احکام پر مشتمل ہے جس کی آیات کریمہ حقائق ایمانی اور شریعت کے اوامر و نواہی پر دلالت کرتی ہیں جن کو برضا و رغبت قبول کرنا اور جن پر عمل کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
[2] بایں ہمہ اکثر لوگوں نے اس سے روگردانی کی۔ وہ اس کا علم نہیں رکھتے اس لیے انھیں سخت تعجب ہے۔ ﴿ اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾ ’’کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد پر وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سنائے‘‘ یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں اس کی ناراضی کا خوف دلائے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے ان کو نصیحت کرے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا﴾ ’’اور خوش خبری دیں ایمان والوں کو‘‘ جو صدق دل سے ایمان لائے ہیں ﴿ اَنَّ لَهُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’کہ ان کے لیے مقام صدق ہے ان کے رب کے پاس‘‘ یعنی ان کے لیے اپنے رب کے پاس وافر جزا اور جمع کیا ہوا ثواب ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے صدق پر مبنی اعمال صالحہ پیش کیے تھے۔ کفار کو اس عظیم شخص پر سخت تعجب ہے اور اس تعجب نے ان کو اس کے انکار پر آمادہ کیا۔ ﴿ قَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور کفار (اس کے بارے میں ) کہتے ہیں ‘‘ ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو واضح طور پر جادوگر ہے ۔‘‘ ان کے زعم کے مطابق اس کا جادوگر ہونا کسی پر مخفی نہیں اور یہ ان کی سفاہت اور عناد کی دلیل ہے۔وہ ایسی بات پر تعجب کرتے ہیں جو ایسی انوکھی چیز نہیں جس پر تعجب کیا جائے۔ تعجب تو ان کی جہالت اور اس چیز پر ہونا چاہیے کہ انھیں اپنے مصالح کی معرفت حاصل نہیں ۔ وہ اس رسول کریمﷺ پر کیسے ایمان نہیں لائے۔ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھی میں سے چن کر رسول مبعوث کیا ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ پس انھوں نے اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کے دین کے ابطال کے سخت حریص ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کر کے رہتا ہے خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔