Tafsir As-Saadi
10:59 - 10:60

کہہ دیجیے! بھلا بتلاؤ تو! جو نازل کیا ہے اللہ نے واسطے تمھارے رزق، پس بنایا تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال، کہہ دیجیے! کیا اللہ نے حکم دیاہے واسطے تمھارے یا اوپر اللہ کے افتراء باندھتے ہو تم؟ (59)اور کیا گمان ہے ان لوگوں کاجو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، روز قیامت کے بارے میں ؟ بلاشبہ اللہ یقینا بڑے فضل والا ہے اوپر لوگوں کے لیکن اکثر ان کے نہیں شکر کرتے (60)

[59] مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لیے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کیے تھے، ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، بھلا بتلاؤ! اللہ نے تمھارے لیے جو روزی اتاری‘‘ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذریعۂ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ ﴿فَجَعَلۡتُمۡ مِّؔنۡهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا﴾ ’’پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال‘‘ یعنی اس فاسد قول پر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’کیا اللہ نے تم کو حکم دیا یا اللہ پر تم جھوٹ باندھتے ہو؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا ہرگز حکم نہیں دیا پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ افتراء پرداز ہیں ۔
[60]﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور کیا خیال ہے اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن‘‘ یہ کہ ان کو سزا دے گا اور ان پر عذاب نازل کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلَى اللّٰهِ وُجُوۡهُهُمۡ مُّسۡوَدَّةٌ﴾(الزمر: 39؍60) ’’اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، آپ قیامت کے روز دیکھیں گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہو رہے ہوں گے۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں پر بہت زیادہ فضل و احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘ یا تو اس کی صورت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے یا وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں استعمال کرتے ہیں یا ان میں سے بعض نعمتوں کو حرام ٹھہرا کر ان کو ٹھکرا دیتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کھانے والی تمام اشیاء میں اصل حلت ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر شرعی حکم وارد نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو حرام قرار دے دیا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے نازل کیا۔