Tafsir As-Saadi
13:2 - 13:4

اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیے آسمان بغیر ستونوں کے، تم دیکھتے ہو ان کو، پھر مستوی ہوا وہ اوپرعرش کےاور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو، ہر ایک چل رہا ہے واسطے وقت مقرر کے، وہ تدبیر کرتا ہے کام کی ، تفصیل سے بیان کرتا ہے نشانیاں (اپنی) تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (2) اور وہی ہے (اللہ) جس نے بچھائی زمین اور بنائے اس میں پہاڑ اورنہریں اور ہر قسم کے پھلوں سے بنائے اس میں جوڑے، دو دو، ڈھانپتا ہے رات سے دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو غورو فکر کرتے ہیں (3) اور زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے کے قریب قریب اور (اسی طرح) باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جڑ سے ملی ہوئی اور جدا جدا، سیراب کی جاتی ہیں ساتھ ایک ہی پانی کےاور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پھلوں (کے ذائقے) میں ، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں (4)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ﴾ ’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا۔‘‘ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ ﴿ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ ’’ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔‘‘ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمھیں ضرور دکھائی دیتے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ ﴿ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ﴾ ’’اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔‘‘ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں ، باغات اور کھیتیوں کے مصالح کی خاطر۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی چاند اور سورج ﴿ يَّجۡرِيۡ ﴾ ’’چل رہا ہے۔‘‘ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾’’ایک وقت مقرر تک‘‘ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آ جائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور ہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو‘‘ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پر مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطۂ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہو چکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لیے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامر و نواہی کو جن کے بندے سخت محتاج ہیں ، کھول کھول کر بیان کرتا ہے توضیح، تبیین اور تمییز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’شاید کہ تم‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس نے تمھیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَؔ ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو‘‘ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح و تبیین تمام امور الٰہیہ میں ، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد ، مثلاً: زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿حَكِيۡمٌ﴾ ’’حکمت والا‘‘ ہے وہ مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کرتا نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء و مرسلین مبعوث کیے اور بندوں کے لیے اوامر و نواہی کی خاطر کتابیں نازل فرمائیں ۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکوکاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔
[3]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے پھیلائی زمین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھے اس میں پہاڑ‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں ۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنۡهٰرًا﴾ ’’اور دریا‘‘ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں ، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم‘‘ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ يُغۡشِي الَّيۡلَ النَّهَارَ ﴾ ’’ڈھانکتا ہے دن پر رات کو‘‘ وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص: 28؍73)’’اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّرُوۡنَؔ۠ ﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں ، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
[4]﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ ﴾ ’’اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات۔‘‘ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و اقسام کے درخت ہیں ﴿ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ ﴾ ’’انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں ‘‘ اور دیگر پھل اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض ﴿ صِنۡوَانٌ ﴾ ’’ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی‘‘ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں ﴿ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ﴾ ’’اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ﴾’’اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میووں میں ‘‘ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کر سکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرتی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے؟﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لیے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں ۔رہے روگرداں اور بلیدالذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے رب کی طرف انھیں کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں ۔