اور جو کوئی پکارے ساتھ اللہ کے معبود کسی اور کو کہ نہیں کوئی دلیل اس کے لیے اس (بات) کی تویقینا حساب اس کا اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے کافر (117) اور آپ کہیں ، اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرمااور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (118)
[117] یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل و براہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں مگر اس نے ظلم اور عناد کی بنا پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ کافر ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ، کافر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کر دیا۔
[118]﴿ وَقُلۡ ﴾ دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ ﴾ اے میرے رب! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں ناپسندیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔