Tafsir As-Saadi
21:76 - 21:77

اور یاد کیجیے نوح کو جب اس نے پکارا تھا اس سے پہلے،پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل (مومنوں ) کو غم سے جو بہت بڑا تھا (76) اور مدد کی ہم نے اس کی اس قوم کے خلاف جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، پس غرق کر دیا ہم نے ان کو سب کو (77)

[77,76] ہمارے بندے اور رسول نوح (u) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انھیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو آباد نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر اور کافر اولاد ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح u کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کو سیلاب میں غرق کر دیا، ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑا۔ صرف نوح u کی ذریت باقی رہ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھا کرنے والی قوم کے خلاف ان کی مدد فرمائی۔