Tafsir As-Saadi
23:101 - 23:114

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114)

[101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘
[102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے
[103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔
[104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔
[105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔
[106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘
[107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔
[108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔
[110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟
[111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘
[114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘