جو شخص امید رکھتا ہے ملاقات کی اللہ سے،پس بلاشبہ وعدہ اللہ کا ضرور آنے والا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (5) اور جو شخص جہاد کرے تو یقینا وہ جہاد کرتا ہے اپنی ذات ہی کے فائدے کے لیے، بے شک اللہ البتہ بے نیاز ہے تمام جہان والوں سے (6)
[5] اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہو جا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لیے زادراہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہو جا۔
[6]مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کر دیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لیے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ اس کی امیدوں کو پورا کر دیتا ہے اور جو کوئی اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اس کا دعویٰ اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی محبت کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں ۔﴿ وَمَنۡ جَاهَدَ ﴾ جس نے اپنے نفس، شیطان اور کافر دشمن کے خلاف جہاد کیا ﴿ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تووہ اپنے ہی فائدے کے لیے جہاد کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس جہاد کا فائدہ اور اس کا ثمرہ اسی کی طرف لوٹتا ہے اور اللہ تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ نے بخل کی بنا پر بعض چیزوں سے روک رکھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اوامرونواہی میں ، مکلف جدوجہد کا محتاج ہے کیونکہ اس کا نفس طبعاً نیکی کرنے میں سستی کرتا ہے، اس کا شیطان اسے نیکی کی راہ سے روکتا ہے اور اس کا کافر دشمن اسے اقامت دین سے منع کرتا ہے ان تمام معارضات کو دور کرنے کے لیے مجاہدے اور سخت کوشش کی ضرورت ہے۔