کیا نہیں دیکھا آپ نے بے شک کشتی چلتی ہے سمندر میں ساتھ فضل اللہ کے، تاکہ دکھائے وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کے لیے (31) اور جب ڈھانپ لیتی ہے انھیں کوئی (بڑی) موج، مانند سائبانوں کے، تو پکارتے ہیں وہ اللہ کو، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (پکار) کو ، پھر جب وہ نجات دے دیتا ہے ان کو خشکی کی طرف تو کوئی ہی ان میں سے عہد پر قائم رہنے والا ہوتا ہے، اور نہیں انکارکرتا ہماری آیتوں کا مگر ہر عہد توڑنے والا ناشکرا ہی (32)
[31] کیا تو نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی رحمت اوراپنے بندوں پر اس کی عنایت کے آثار نہیں دیکھے؟ اس نے سمندر کو مسخر کیا جس میں اس کے حکم قدری اور اس کے لطف و احسان سے کشتیاں چلتی ہیں۔ ﴿لِيُـرِيَكُمۡ مِّنۡ اٰيٰتِهٖ﴾ ’’تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے۔‘‘ ان نشانیوں میں نفع اور عبرت ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ ﴾ ’’بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکرکرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ پس یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ ہر تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور خوشی پر شکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اس کی اطاعت پر صبر کرتے ہیں، اس کی قضا و قدر پر صبر کرتے اور اس کی دینی اور دنیاوی نعمتوں پر اس کا شکر کرتے ہیں۔
[32] اللہ تعالیٰ لوگوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جب لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور سمندر کی موجیں چھتری کی مانند ان پر چھا جاتی ہیں تب وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ ﴿فَلَمَّا نَجّٰىهُمۡ اِلَى الۡـبَرِّ ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر لے آتا ہے۔‘‘ تو وہ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں: ان میں سے ایک گروہ کے لوگ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں، یعنی کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کر کے اس کی نعمت کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ ﴾ ’’اور ہماری آیتوں کا وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن ہیں۔‘‘ ان کی بدعہدی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے سمندر اور اس کی سختیوں سے انھیں نجات دی تو وہ اس کے شکر گزار بندے بنیں گے۔ پس اس فریق نے بد عہدی کی اپنے عہد کو پورا نہ کیا اور اس پر مستزاد یہ کہ ﴿كَفُوۡرٍ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے سخت ناشکرے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ان سختیوں سے نجات دی ہو کیا اس کے لیے اس کا شکر ادا کرنے کے سوا کچھ اور لائق ہے؟