پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا سیدھے دین کی طرف پہلے اس سے کہ آجائے وہ دن کہ نہیں ہے ٹلنا اس کا اللہ کی طرف سے، اس دن وہ (لوگ) جدا جدا ہوں گے (43) جس شخص نے کفر کیاتو اسی پر ہے کفر اس کا اور جس نے عمل کیے صالح تو وہ اپنے ہی لیے راستہ سنوارتے ہیں (44) تاکہ وہ (اللہ) جزا دے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اپنے فضل سے۔ بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا کافروں کو (45)
[43] اپنے دل، چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے۔ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے، اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کر لیجیے ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔‘‘ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آ جائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہو گا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے انجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہو چکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ﴿يَوۡمَىِٕذٍ يَّصَّدَّعُوۡنَ ﴾ یعنی اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
[44، 45]﴿مَنۡ كَفَرَ ﴾ ’’جس نے کفر کیا‘‘ ان میں سے ﴿فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ﴾ ’’تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔‘‘ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور جس نے نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنۡفُسِهِمۡ۠﴾ ’’تو وہ اپنے ہی لیے ‘‘ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿يَمۡهَدُوۡنَ ﴾ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘