Tafsir As-Saadi
34:12 - 34:14

اور (تابع کیا) سلیمان کے ہوا کو، اس کا صبح کا چلنا، ایک ماہ (کی مسافت) تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ تھا اور بہا دیا ہم نے اس کے لیے چشمہ تانبے کا، اور کچھ جن تھے جو کام کرتے تھے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے، اور جو پھر جاتاان میں سے ہمارے حکم سے تو چکھاتے ہم اس کو خوب عذاب بھڑکتی آگ کا (12) وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا ، عالیشان عمارتیں اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے حوض اور دیگیں جمی ہوئیں، عمل کرو تم اے آل داؤد! (ہمارا) شکر کرنے کے لیے، اور بہت ہی تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے شکر گزار(13) پس جب ہم نے فیصلہ (نافذ) کر دیا اس (سلیمان) پر موت کا ، تو نہیں بتلایا ان (جنوں) کو اس (سلیمان) کی موت کا، مگر گھن کے کیڑے نے جو کھا رہا تھا اس کی لاٹھی کو، پس جب گر گیا سلیمان، تو جان لیا جنوں نے کہ اگر ہوتے وہ جانتے غیب کو تو نہ ٹھہرے رہتے وہ اس عذاب میں جو ذلیل کرنے والا ہے(14)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنا فضل و کرم بیان کرنے کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمانu پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو آپ کے لیے مسخر کر دیا جو آپ کے حکم پر چلتی تھی جو آپ کو اور آپ کی افواج کو اٹھائے پھرتی تھی اور بہت دور کی مسافتیں بہت کم مدت میں طے کرتی تھی۔ دو ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کر لیتی تھی۔ فرمایا: ﴿غُدُوُّهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی۔‘‘ دن کی ابتدا سے لے کر زوال تک ﴿وَّرَوَاحُهَا شَهۡرٌ ﴾ ’’اور اس کی شام کی منزل ایک مہینے کی ہوتی تھی ۔‘‘ یعنی زوال آفتاب سے لے کر دن کے آخر تک۔ ﴿وَاَسَلۡنَا لَهٗ عَيۡنَ الۡقِطۡرِ﴾ اورہم نے حضرت سلیمانu کے لیے تانبے کا چشمہ مسخر کر دیا اور اس تانبے سے مختلف اقسام کی اشیاء اور برتن بنانے کے اسباب کو ان کے لیے آسان کر دیا۔نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کے لیے شیاطین اور جنوں کو مسخر کر دیا وہ آپ کی حکم عدولی کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِيۡرِ ﴾ ’’اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا، ہم اس کو جہنم کی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
[13] یہ شیاطین اور جن وہ تمام کام کرتے تھے جس کا حضرت سلیمانu ان کو حکم دیتے تھے ﴿مِنۡ مَّحَارِيۡبَ ﴾ ’’قلعے‘‘ اس سے مراد ہر ایسی تعمیر ہے جس کے ذریعے سے عمارتوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ گویا اس میں بڑی بڑی عمارتوں کا ذکر ہے ﴿وَتَمَاثِيۡلَ ﴾ ’’اور مجسمے‘‘ یعنی حیوانات و جمادات کی تماثیل بنانا ان کی اس صنعت میں مہارت ، قدرت اور ان کا سلیمان u کے لیے کام کرنے پر دلالت کرنا ہے۔ ﴿وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ ﴾ ’’اور لگن جیسے تالاب‘‘ وہ حضرت سلیمانu کے لیے بڑے بڑے حوض بناتے تھے، جن میں کھانا ڈالا جاتا تھا کیونکہ حضرت سلیمانu ایسی چیزوں کے محتاج تھے جن کے دوسرے لوگ محتاج نہ تھے اور وہ ان کے لیے بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی ہونے کی وجہ سے اپنی جگہ سے نہ ہٹتی تھیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنی نوازشات کا ذکر کرنے کے بعد انھیں ان نوازشات پر شکر کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ ﴾ ’’اے آل داود! نیک عمل کرو۔‘‘ اس سے مراد داؤ دu، ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ان سب پر تھا اور ان بہت سے فوائد سے سب ہی مستفید ہوتے تھے۔ ﴿شُكۡرًا ﴾ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾ اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا۔
[14] شیاطین اور جن حضرت سلیمانu کے لیے عمارتیں تعمیر کرتے رہے۔ انھوں نے انسانوں کو بہکایا اور ان پر ظاہر کیا کہ وہ غیب کا علم جانتے ہیں اور چھپی ہوئی چیزوں کی اطلاع رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بندوں پر ان کا جھوٹ واضح کرے، لہٰذا وہ اپنا کام کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانu کی وفات کا فیصلہ کر دیا، حضرت سلیمانu اپنے عصا کا سہارا لیے کھڑے تھے (اور اسی حالت میں وفات پاگئے) تو جن جب وہاں سے گزرتے تو دیکھتے کہ وہ سہارا لیے کھڑے ہیں۔ وہ انھیں زندہ سمجھتے ہوئے ان سے ڈرتے رہے۔ ایک قول کے مطابق جن سال بھر اسی طرح کام کرتے رہے حتیٰ کہ دیمک نے ان کا عصا کھانا شروع کر دیا یہاں تک کہ عصا بالکل ختم ہو کر گر گیا اور اس کے ساتھ حضرت سلیمانu کا جسد بھی زمین پر آرہا۔ یہ دیکھ کر شیاطین آزاد ہو کر بھاگ گئے اس طرح انسانوں پر واضح ہو گیا ﴿اَنۡ لَّوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ الۡغَيۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِي الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’کہ اگر جنوں کے پاس علم غیب ہوتا تو وہ اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے‘‘ یعنی اس انتہائی سخت کام میں مصروف نہ رہتے۔ اگر ان کے پاس غیب کا علم ہوتا تو انھیں حضرت سلیمانu کے وفات پاجانے کا علم ہوتا، جو ان کی سب سے بڑی خواہش تھی تاکہ اس مشقت سے نجات پائیں۔