Tafsir As-Saadi
33:9 - 33:11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا ٩
إِذۡ جَآءُوكُم مِّن فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ أَسۡفَلَ مِنكُمۡ وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ ١٠
هُنَالِكَ ٱبۡتُلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَزُلۡزِلُواْ زِلۡزَالٗا شَدِيدٗا ١١

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11)

[11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘

یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔