Tafsir As-Saadi
35:11 - 35:11

اور اللہ ہی نے پیدا کیا تم کو مٹی سے، پھر نطفے (قطرۂ منی) سے، پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے اور نہیں بوجھ اٹھاتی(پیٹ میں) کوئی مادہ اور نہ وہ جنتی ہے، مگر ساتھ اس کے علم کے اور نہیں عمر دیا جاتا کوئی عمر دیا جانے والا اور نہ کم کی جاتی ہے اس کی عمر سے، مگر (وہ درج) ہے ایک کتاب (لوح محفوظ) میں، بلاشبہ یہ بات اللہ پر نہایت آسان ہے(11)

[11] اللہ تبارک وتعالیٰ آدمی کی تخلیق یعنی مٹی سے لے کر نطفے اور بعد کے مراحل میں اس کے منتقل ہونے کا تذکرہ فرماتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتا رہا حتیٰ کہ تم مرد اور عورت نکاح کے مرحلے میں داخل ہو گئے یہاں نکاح اور ازدواج سے مراد اولاد اور ذریت ہے۔ نکاح اگرچہ حصول اولاد کا سبب ہے، تاہم یہ اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کے علم سے مقرون ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ ’’جو بھی مادہ حاملہ ہوتی ہے یا بچہ جنتی ہے تو اللہ کو اس کاعلم ہوتا ہے۔‘‘ اسی طرح آدمی کی تخلیق کے مختلف ادوار اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قضا وقدر سے مقرون ہیں۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ﴾ ’’اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جس شخص کو طویل عمر عطا کی گئی ہو تو اس کی عمر میں کمی نہیں کی جاتی ﴿اِلَّا ﴾ ’’مگر‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے یا کسی ایسے یا انسان کی عمر میں جو کمی کی گئی ہو جو اس کی طوالت کے درپے رہتا اگر وہ کوتاہ عمری کے اسباب کو اختیار نہ کرتا، مثلاً: زنا، والدین کی نافرمانی اور قطع رحمی وغیرہ، جن کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عمر کے کم ہونے کے اسباب ہیں اور معنی یہ ہے کہ عمر کا طویل یا کم ہونا، کسی سبب کی بنا پر ہو یا کسی سبب کے بغیر سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ﴿فِيۡؔ كِتٰبٍ ﴾ ’’ایک کتاب میں‘‘ درج کر رکھا ہے۔ بندے کے تمام ایام حیات اور اس کے تمام اوقات میں اس کے ساتھ جو کچھ گزرتا ہے، سب اس کتاب میں درج ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾’’بلاشبہ یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔‘‘ یعنی ان بے شمار معلومات اور اس بارے میں کتاب کا احاطہ بہت آسان ہے۔یہ تین دلائل جو زندگی بعد موت پر دلالت کرتے ہیں، سب عقلی دلائل ہیں، جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں اشارہ کیا ہے۔(۱)زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنا۔(۲)وہ ہستی جس نے زمین کو حیات نو بخشی، وہ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔(۳) انسان کا ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونا۔وہ اللہ جو اسے وجود میں لایا، جس نے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں اور ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کیا یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ گیا جو اس کے لیے مقدر تھا، اس اللہ کے لیے اس کی زندگی کا اعادہ کرنا اور دوسری تخلیق عطا کرنا آسان تر ہے۔ اس کے علم نے تمام عالم علوی اور عالم سفلی کا، ہر چھوٹی یا بڑی چیز کا جو دلوں میں چھپی ہوئی ہے، ان بچوں کا جو ماؤ ں کے پیٹ میں ہیں اور عمروں کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کا احاطہ کر رکھا ہے اور یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ پس وہ اللہ جس کے لیے یہ سب کچھ اتنا آسان ہے اس کے لیے مردوں کو دوبارہ زندگی بخشنا آسان سے آسان تر ہے۔ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کی بھلائیاں ان گنت ہیں۔ اس نے اپنے بندوں کے لیے ان تمام امور کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ان کی معاش و معاد کی بھلائی ہے۔