Tafsir As-Saadi
35:25 - 35:26

اوراگر وہ جھٹلاتے ہیں آپ کو تو(نئی بات نہیں) تحقیق جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے ہوئے، آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ، اور صحیفوں کے ساتھ اور کتا ب روشن کے ساتھ(25) پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، پس (دیکھو) کیسے (نازل) ہوا ان پر میرا عذاب (26)

[25] اے رسول! اگر یہ مشرکین آپ کو جھٹلاتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو ﴿فَقَدۡ كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۚ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’پس جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کر چکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ آئے جو حق اور ان رسولوں کی خبر کی صداقت پر دلالت کرتے تھے ﴿وَبِالزُّبُرِ ﴾ یعنی لکھی ہوئی کتابوں کے ساتھ آئے جن میں بہت سے احکام جمع تھے ﴿وَبِالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ ﴾ یعنی جو اپنی سچی خبروں اور عدل پر مبنی احکام میں پوری طرح روشن ہے۔ ان کا اپنے رسولوں کو جھٹلانا، کسی اشتباہ اور رسولوں کی دعوت میں کسی کمی پر مبنی نہ تھا بلکہ اسکا سبب محض ان کا ظلم اور عناد تھا۔
[26]﴿ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’، پھر میں نے (مختلف انواع کے عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑا جنھوں نے کفر کیا تھا۔‘‘ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ ﴾ ’’پس میرا عذاب کیسا سخت تھا۔‘‘ ان پر؟ ان کے لیے نہایت سخت سزا تھی۔ اس لیے تم رسول کریم (ﷺ)کی تکذیب سے بچو ورنہ تم پر بھی وہی دردناک اور رسوا کن عذاب نازل ہو جائے گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے کائنات میں متضاد اشیاء کو تخلیق کیا جن کی اصل اور مادہ ایک ہے، مگر اس کے باوجود ان میں فرق اور تفاوت ہے جو معروف اور سب پر عیاں ہے تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔