Tafsir As-Saadi
37:114 - 37:122

اور البتہ تحقیق احسان کیا ہم نے اوپر موسی اور ہارون کے(114) اور نجات دی ہم نے ان دونوں کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی (بھاری) مصیبت سے(115) اور مدد کی ہم نے ان کی، پس ہوئے وہی غلبہ حاصل کرنے والے (116) اور دی ہم نے ان دونوں کو کتاب واضح (117) اور ہدایت دی ہم نے ان دونوں کو راہ راست کی (118) اور چھوڑا ہم نے ان دونوں پر پچھلے لوگوں میں(119)کہ سلام ہو اوپر موسی اور ہارون کے(120) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو(121) بے شک وہ دونوں (تھے) ہمارے مومن بندوں میں سے(122)

[122-114] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دو بندوں اور رسولوں یعنی عمران کے بیٹوں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ان دونوں کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، ان کو اور ان کی قوم کو ان کے دشمن فرعون سے نجات دی، ان کے دشمن کو ان کی نظروں کے سامنے سمندر میں غرق کر کے ان کی مدد فرمائی اور ان پر حق و باطل کو واضح کرنے والی کتاب یعنی تورات نازل کی جو شرعی احکامات، مواعظ اور ہر چیز کی تفصیل پر مشتمل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی، انھیں دین عطا کیا جو ایسے احکامات و قوانین پر مشتمل تھا، جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس راستے پر گامزن کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِمَا فِي الۡاٰخِرِيۡنَۙ۰۰ سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے بعد آنے والوں میں ان کی مدح، ثنائے حسن اور سلام کو باقی رکھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں میں، ان کی مدح و ثنا کا موجود ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهُمَا مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نیکو کار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘