Tafsir As-Saadi
37:123 - 37:132

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)

[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔