اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138)
[138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔