Tafsir As-Saadi
39:32 - 39:35

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35)

[32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
[33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔
[34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔
[35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘