Tafsir As-Saadi
37:167 - 37:182

اور یقیناً تھے وہ کہتے(167) اگر ہوتی ہمارے پاس نصیحت (کتاب) پہلے لوگوں کی(168) تو البتہ ضرور ہوتے ہم بندے اللہ کے برگزیدہ( چنے) ہوئے (169) سو انکار کیا انھوں نے اس کا ، پس عنقریب وہ جان لیں گے(170) اور یقیناً پہلے سے صادر ہو چکی ہماری بات، اپنے بندوں کے لیے جو فرستادگان (رسول) ہیں (171) کہ بے شک البتہ وہی مدد کیے جائیں گے(172) اور بلاشبہ ہمارا لشکر البتہ وہی غالب رہے گا(173) اور منہ موڑ لیجیے ان سے ایک مدت تک(174) اوردیکھیے انھیں! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(175)کیا پس ہمارا عذاب وہ جلدی مانگتے ہیں؟(176)پس جب ناز ل ہو گا وہ ان کے صحن میں، تو بری ہو گی صبح ڈرائے گئے لوگوں کی (177) اوراعراض کر لیجیے ان سے ایک مدت تک (178) اور دیکھیے! پس عنقریب وہ بھی دیکھیں گے(179) پاک ہے آپ کا رب، مالک عزت کا، ان باتوں سے جو وہ (مشرک)بیان کرتے ہیں (180) اور سلام ہے اوپر رسولوں کے(181) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو رب ہے سب جہانوں کا (182)

[170-167] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ مشرکین اس تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس بھی کتابیں آتیں جیسے پہلے لوگوں پر کتابیں آئی تھیں تو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، بلکہ ہم حقیقی مخلص ہوتے۔ وہ اس بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ان کے پاس سب سے افضل کتاب آئی، مگر انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کا رویہ رکھے ہوئے ہیں۔ ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ عنقریب جب ان پر عذاب واقع ہو گا تو انھیں معلوم ہو جائے گا۔
[179-171] وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ دنیا میں غالب ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے جس کو کوئی رد کر سکتا ہے نہ اس کی مخالفت کر سکتا ہے… کہ اس کی بندگی کرنے والے رسول اور اس کی فلاح یافتہ فوج ہی غالب رہے گی، ان کو ان کے رب کی طرف سے فتح و نصرت حاصل ہو گی تب وہ نصرت الٰہی سے اس کے دین کو قائم کرنے کی قدرت رکھیں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک عظیم بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے لشکر میں شامل ہیں، جو اس لشکر کی صفات سے متصف ہیں، جن کے احوال درست ہیں، جو ان لوگوں سے جہاد کرتے ہیں جن سے جہاد کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غالب اور فتح یاب رہیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو حکم دیا کہ وہ اہل عناد سے جنھوں نے حق کو قبول نہیں کیا، گریز کریں، نیز فرمایا کہ اب تو ان پر نازل ہونے والے عذاب کا انتظار باقی ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَّاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’پس آپ انھیں دیکھتے رہیے اور وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے‘‘ کہ کس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان پر یہ عذاب بہت جلد نازل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمۡ ﴾ ’’مگر جب وہ ان کے میدان میں اترے گا۔‘‘ یعنی جب ان پر عذاب نازل ہو گا اور ان کے قریب ہوگا ﴿فَسَآءَ صَبَاحُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا، ان کے لیے برا دن ہوگا۔‘‘ کیونکہ یہ صبح ان کے لیے شر، عقوبت اور استیصال لے کر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو دوبارہ حکم دیا ہے کہ وہ ان مشرکین سے گریز کریں اور مشرکین کو وقوع عذاب کی وعید سنائی۔
[182-180] چونکہ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے بہت سے اقوال کا ذکر کیا ہے۔ جن کے ساتھ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو موصوف کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّكَ ﴾ ’’آپ کا رب پاک ہے‘‘ یعنی منزہ اور بلندوبالا ہے ﴿رَبِّ الۡعِزَّةِ ﴾ وہ ہر چیز پر غالب ہے ہر برائی سے بالا و بلندتر ہے جس سے یہ مشرکین اسے موصوف کرتے ہیں۔ ﴿وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اور سلام ہے رسولوں پر کیونکہ وہ گناہوں اور تمام آفات سے سلامت ہیں اور جن اوصاف سے مشرکین نے زمین اور آسمانوں کے خالق کو موصوف کیا ہے ان سے سلامت ہیں۔ ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ الف اور لام استغراق کے لیے ہے۔ پس حمدوستائش کی تمام اقسام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، یعنی تمام صفات کاملہ و عظیمہ ، وہ تمام افعال جن کے ذریعے سے اس نے اس کائنات کی تربیت کی، ان کو لامحدود نعمتوں سے نوازا، ان سے بہت سی مصیبتوں کو دور کیا اور اس نے ان کی تمام حرکات و سکنات اور ان کے تمام احوال میں ان کی تدبیر کی وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک اور ہر کمال کی بنا پر قابل تعریف ہے۔ وہ اپنے بندوں کے نزدیک محبوب اور سزاوارِ تعظیم ہے۔ اس کے رسول ہر گناہ سے محفوظ ہیں اور جو کوئی ان انبیاء و رسل علیہ السلام کی اتباع کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں سلامتی کا مستحق ہے اور ان کے دشمنوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت ہے۔