Tafsir As-Saadi
39:23 - 39:23

اللہ نے نازل کی سب سے اچھی بات(یعنی ) کتاب، باہم ملتی جلتی، بار بار دہرائی ہوئی، کانپ اٹھتی ہیں اس سے جلدیں ان لوگوں کی جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے، پھر نرم ہو جاتی ہیں ان کی جلدیں اوران کے دل اللہ کی یاد کی طرف، یہی ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے وہ اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور جسے گمراہ کر دے اللہ، پس نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (23)

[23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق ﴿اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’بہترین کلام ہے۔‘‘ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین، اس کے معانی جلیل ترین ہیں کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختلاف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غوروفکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت، اس کے معانی میں ایسی گہرائی نظر آئے گی جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ (بے عیب) کلام حکمت اور علم والی ہستی کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ اس مقام پر ’’تشابہ‘‘ سے یہی مراد ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾(آل عمران:3؍7) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ تو اس سے مراد وہ آیات کریمہ ہیں جو بہت سے لوگوں کے فہم سے پوشیدہ اور مشتبہ ہوتی ہیں۔ یہ اشتباہ اس وقت تک زائل نہیں ہوتا جب تک کہ ان کو آیات محکمات کی طرف نہ لوٹایا جائے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾(آل عمران:3/7) ’’اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض آیات میں تشابہ قرار دیا گیا ہے اور یہاں تمام آیات کو متشابہکہا ہے، یعنی حسن میں مشابہ ہیں، کیونکہ ارشاد فرمایا:﴿اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ ﴾’’نہایت اچھی باتیں‘‘ اس سے مراد تمام آیات اور سورتیں ہیں، جو ایک دوسری سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔﴿مَّؔثَانِيَ ﴾ ’’دہرائی جاتی ہیں۔‘‘ یعنی اس بہترین کلام میں قصص و احکام، وعد و وعید، اہل خیر کے اوصاف اور اہل شر کے اعمال کو بار بار دہرایا جاتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ اس کلام کا حسن و جلال ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ مخلوق اس کلام کے معانی کی محتاج ہے جو دلوں کو پاک اور اخلاق کی تکمیل کرتے ہیں، اس لیے اس نے ان معانی کو دلوں کے لیے وہی حیثیت دی ہے جو درختوں اور پودوں کے لیے پانی کی ہے۔ جس طرح درخت اور پودے عدم سیرابی کے باعث ناقص بلکہ بسااوقات تلف ہو جاتے ہیں اور پودوں کو جتنا زیادہ بار بار سیراب کیا جائے گا اتنے ہی وہ خوبصورت ہوں گے اور اتنا ہی زیادہ وہ پھل لائیں گے… اسی طرح دل بھی کلام اللہ کے معانی کے تکرار کے ہمیشہ محتاج رہتے ہیں۔ اگر تمام قرآن میں اس کے سامنے ایک ہی معنی بیان کیا جائے تو معنی اس کی گہرائی میں جاگزیں ہو گا نہ اس سے مطلوبہ نتائج ہی حاصل ہوں گے۔بنابریں میں اپنی تفسیر میں، قرآن مجید کے اسلوب کی اقتدا میں، اسی مسلک کریم پر گامزن ہوں۔ اس لیے آپ کسی بھی مقام پر کوئی حوالہ نہیں پائیں گے، بلکہ آپ ہر مقام پر گزشتہ صفحات میں اس سے ملتے جلتے مقام کی تفسیر کی رعایت رکھے بغیر، اس کی مکمل تفسیر پائیں گے۔ اگرچہ بعض مقامات پر نسبتاً زیادہ بسط و شرح سے کام لیا گیا اور اس میں فوائد دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور اس کے معانی میں غوروفکر کرنے والے کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ وہ قرآن مجید کے تمام مقامات میں تدبر کو ترک نہ کرے کیونکہ اس سبب سے اسے خیرکثیر اور بہت زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔ چونکہ قرآن عظیم اس عظمت و جلال کے ساتھ ہدایت یافتہ اور عقل مند لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُوۡدُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ﴾ ’’جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس (قرآن) سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ کیونکہ اس کے اندر بے قرار کر دینے والی تخویف و ترہیب ہے ﴿ثُمَّ تَلِيۡنُ جُلُوۡدُهُمۡ وَقُلُوۡبُهُمۡ اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہوکر) اللہ کی یاد کی طرف (متوجہ)ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی امید اور ترغیب کے ذکر کے وقت۔ یہ ذکر کبھی تو ان کو بھلائی کے عمل کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی برائی کے عمل سے ڈراتا ہے۔﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ان کے اندر تاثیر قرآن کا اللہ تعالیٰ نے جو ذکر کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اس کے بندوں کے لیے اس کی طرف سے ہدایت ہے اور ان پر یہ اس کے جملہ فضل و احسان میں سے ہے۔ ﴿يَهۡدِيۡ بِهٖ﴾ اس تاثیر قرآن کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے ﴿مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’جسے چاہتا ہے‘‘ اپنے بندوں میں سے۔ اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ﴿ذٰلِكَ ﴾ سے مراد قرآن ہو ، یعنی وہ قرآن جس کا وصف ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے اس کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ﴿يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو اچھا مقصد رکھتے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ﴾(المائدۃ: 5؍16) ’’اللہ اس کتاب کے ذریعے سے ان لوگوں کو سلامتی کا راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی توفیق کے سوا کوئی راستہ نہیں جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہو، کتاب اللہ پر توجہ مرکوز کرنے کی توفیق بھی اسی سے ملتی ہے۔ پس اگر اللہ کی توفیق نصیب نہ ہو تو راہ راست پر چلنے کا کوئی طریقہ نہیں تب واضح گمراہی اور رسوا کن بدبختی کے سوا کچھ بھی نہیں۔