کیا پس جو شخص بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سے برے عذاب سے دن قیامت کے (وہ برابر ہے جنتی کے؟)اور کہا جائے گا ظالموں سے‘ چکھو تم (مزا ) اس کاجو تھے تم کماتے (24) جھٹلایا (تھا) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے‘ تو آیا ان کے پاس عذاب ایسی جگہ سے کہ نہیں وہ شعور رکھتے تھے (25) پس چکھائی ان کو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور البتہ عذاب آخرت کا بہت بڑا ہے‘ کاش کہ وہ ہوتے جانتے (26)
[24] کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔‘‘
[25]﴿كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ﴿فَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انھیں خبر ہی نہ تھی۔‘‘ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں یا دن کے وقت یا اس وقت آ نازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔
[26]﴿فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ نے انھیں چکھایا۔‘‘ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے ﴿الۡخِزۡيَ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ دنیا ہی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہو گئے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ١ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! وہ جان لیتے۔‘‘ اس لیے ان لوگوں کو آپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔