اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور رسول کی تو یہ لوگ ساتھ ہوں گے ان لوگوں کے کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین (کے ساتھ) اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق (ساتھی) کے طور پر(69) یہ فضل ہے اللہ کی طرف سےاور کافی ہے اللہ جاننے والا(70)
[69] یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾’’پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا‘‘ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال ، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔﴿ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انھیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انھوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انھوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا ﴿ وَالشُّهَدَآءِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کر دیے گئے ﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو گا ﴿ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيۡقًا﴾ ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔
[70]﴿ ذٰلِكَ الۡفَضۡلُ ﴾ یہ فضیلت جو انھوں نے حاصل کی ہے ﴿ مِنَ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انھیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انھیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔