سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161)
[158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔
[159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔
[161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔