اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے علم قیامت (کے آنے)کا اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہیں حمل سے ہوتی کوئی مادہ اور نہ (کوئی بچہ) جنتی ہے مگر اس کے علم ہی سے اور جس دن پکارے گا وہ ان کو، کہا ں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے: ہم نے بتلا دیا تجھ کو، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ (اس بات کا)(47)اور گم ہو جائیں گے ان سے وہ جن کو تھے وہ پکارتے اس سے پہلے اور وہ گمان کریں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (48)
[47، 48] یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ ’’قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَكۡمَامِهَا ﴾ ’’اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔‘‘ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَضَعُ ﴾ ’’اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ مگر اس کے علم سے۔‘‘ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا:﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيۡ ﴾ ’’میرے شریک کہاں ہیں۔‘‘ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوۡۤا ﴾ وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَهِيۡدٍ﴾ ’’ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَدۡعُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوۡا ﴾ اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔