Tafsir As-Saadi
5:93 - 5:93

نہیں ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، کوئی گناہ اس چیز میں جو کھا چکے وہ، جب ڈر جائیں وہ اور ایمان لے آئیں اور عمل کریں نیک ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور ایمان لائیں ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور نیکی کریں اور اللہ محبت کرتا ہے نیکی کرنے والوں سے(93)

[93] جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انھیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جُنَاحٌ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں ۔‘‘ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا﴾ ’’اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے‘‘ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿ اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جبکہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے، پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں .... ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خالق کی عبادت کرنے والے نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔