Tafsir As-Saadi
50:5 - 50:5

بلکہ انھوں نے جھٹلایا حق کو جب وہ آیا ان کے پاس، پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں(5)

[5]﴿ بَلۡ﴾ ان کا وہ کلام جو ان سے صادر ہوا ہے، محض عناد اور تکذیب ہے جو صدق کی بلند ترین نوع ہے۔ ﴿ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِيۡۤ اَمۡرٍ مَّرِيۡجٍ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک الجھاؤ میں پر گئے۔‘‘ یعنی وہ ایک مختلف اور مشتبہ معاملے میں پڑے ہوئے ہیں، کسی چیز پر انھیں ثبات حاصل ہے نہ قرار۔ کبھی تو آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’تو جادوگر ہے‘‘ کبھی کہتے ہیں ’’تو پاگل ہے‘‘ اور کبھی کہتے ہیں ’’تو شاعر ہے‘‘ اسی طرح انھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، وہ مشتبہ معاملے میں پڑا ہوا ہے، اسے کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ قرار آتا ہے۔ اس لیے تو اس کے معاملات کو باہم متناقض اور افک و بہتان پر مبنی پائے گا۔ جو کوئی حق کی اتباع اور اس کی تصدیق کرتا ہے، اس کا معاملہ درست اور اعتدال کی راہ پر ہوتا ہے، اس کا فعل، اس کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔