Tafsir As-Saadi
6:159 - 6:160

بے شک وہ لوگ جنھوں نے تفرقہ بازی کی اپنے دین میں اور ہو گئے وہ گروہ گروہ،نہیں ہیں آپ ان سے کسی چیزمیں،یقینا ان کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس چیز کی جو تھے وہ کرتے(159) جوشخص لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس گنا(ثواب) ہے اس کا،اور جو شخص لائے گا ایک برائی تو نہیں سزادیا جائے گا وہ مگر مثل اسی کے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(160)

[159] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان سے آپ کو کچھ کام نہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔ ‘‘
[160] پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾ ’’تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘