Tafsir As-Saadi
7:94 - 7:95

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر پکڑا ہم نے اس کے رہنے والوں کو ساتھ سختی اور تکلیف کے تاکہ وہ گڑگڑائیں(94) پھر بدل کردے دی ہم نے (ان کو) برائی کی جگہ اچھائی، یہاں تک کہ جب زیادہ ہوگئے وہ اور کہا پہنچی تھی ہمارے آباؤ اجداد کو بھی سختی اور راحت تو پکڑ لیا ہم نے انھیں یکایک اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے(95)

[94]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِيٍّ ﴾ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی‘‘ جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں ، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ ’’سختی اور تکلیف میں ‘‘ یعنی محتاجی، مرض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہو تو شاید ان کے نفس جھک جائیں ۔ ﴿ يَضَّرَّعُوۡنَ ﴾ ’’عاجزی اور زاری کریں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑگڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ۔
[95]﴿ثُمَّ ﴾ پھر جب ان کو ابتلا نے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ اپنے تکبر پر جمے رہے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ بَدَّلۡنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ ﴾ ’’بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں اضافہ کر دیا، ان کو جسمانی عافیت دی اور ان سے آزمائش اور تکالیف کو دور کر دیا۔ ﴿حَتّٰى عَفَوۡا ﴾’’حتی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوگئی‘‘ ان کے رزق میں اضافہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم میں مزے اڑانے لگے اور وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان پر کیا مصیبتیں نازل ہوئی تھیں ۔﴿ وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّؔآءُ ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، کہ پہنچتی رہی ہے ہمارے باپ دادا کو بھی مصیبت اور خوشی‘‘ یعنی رنج و راحت کا آنا تو ایک عادت جاریہ ہے، اولین و آخریں تمام لوگوں پر رنج و راحت کے حالات آتے رہتے ہیں ۔ کبھی وہ راحت میں ہوتے ہیں اور کبھی رنج و غم سے دوچار ہوتے ہیں ، انقلابات زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ ساتھ کبھی وہ خوش ہوتے ہیں اور کبھی غم زدہ۔ وہ ان مصائب اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت اور تنبیہ سمجھتے ہیں نہ استدراج اور نکیر۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا اسی میں شاداں و فرحاں رہے اور دنیا ان کے لیے سب سے زیادہ خوش کن چیز تھی۔ ﴿فَاَخَذۡنٰهُمۡ ﴾ ’’کہ ہم نے (عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑ لیا۔‘‘ ﴿ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اچانک اور ان کو خبر نہ تھی‘‘ یعنی ہلاکت ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے وہ اسے حاصل کرنے پر قادر تھے اور یہ سب کچھ ان سے زائل ہوگا نہ ان سے واپس لیا جائے گا۔