Tafsir As-Saadi
7:96 - 7:99

اور اگر بے شک بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(96) کیا پس بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب رات کواور وہ سوئے ہوئے ہوں؟(97)اور کیا بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے اور وہ کھیل رہے ہوں؟(98) کیا پس بے خوف ہوگئے وہ اللہ کی تدبیر سے، پس نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ پانے والے لوگ ہیں(99)

[96] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔‘‘ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘
[97]﴿اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى ﴾ ’’کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟‘‘ ﴿ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ﴾ ’’اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں ‘‘ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں ۔
[98]﴿اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ ’’کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں ‘‘ یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟
[99]﴿ اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ )(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں ۔