اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)
[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔