Tafsir As-Saadi
9:12 - 9:15

اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)

[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔
[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘
[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔